9 اگست 2026 - 14:43
مآخذ: ابنا
اٹلی میں مساجد اور مذہبی اقلیتوں کی نگرانی سخت کرنے کا متنازع قانون زیرِ غور

۔ اٹلی کی پارلیمنٹ میں ایک متنازع قانونی مسودہ زیرِ غور ہے جس کے بارے میں مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلم برادری اور مساجد پر سکیورٹی نگرانی مزید سخت کی جا سکتی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجننسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق۔ اٹلی کی پارلیمنٹ میں ایک متنازع قانونی مسودہ زیرِ غور ہے جس کے بارے میں مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلم برادری اور مساجد پر سکیورٹی نگرانی مزید سخت کی جا سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مسودہ حکمران دائیں بازو کی جماعت لیگا (Lega) سے وابستہ ارکان نے پیش کیا ہے اور اسے مذہبی بنیاد پرستی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے عنوان سے پارلیمنٹ کی آئینی امور کی کمیٹی میں زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

مجوزہ قانون میں اٹلی میں ائمہ اور مذہبی مبلغین کے لیے ایک قومی رجسٹر قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مساجد میں امامت یا مذہبی رسومات کی قیادت کے لیے رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کی بات کی گئی ہے۔ مجوزہ شرائط میں اطالوی زبان پر مخصوص دسترس، کئی سال سے ملک میں مسلسل رہائش اور بعض قانونی تقاضے شامل ہیں۔

مسودے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مذہبی اداروں اور مساجد کی سرگرمیوں، مالی وسائل، ائمہ اور مذہبی تعلیمات سے متعلق وسیع معلومات جمع کرنے کی تجاویز شامل ہیں، جو مذہبی آزادی اور رازداری کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہیں۔

مجوزہ قانون میں عبادت گاہوں میں غیر اطالوی زبان میں خطابات یا مذہبی تقاریر پر پابندی اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اسی طرح مساجد کی تعمیر، توسیع یا عمارتوں کے استعمال میں تبدیلی کے لیے اضافی انتظامی منظوریوں اور بعض صورتوں میں مقامی آبادی کی رائے کو ضروری قرار دینے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسی شرائط مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو محدود کر سکتی ہیں اور انہیں دیگر مذہبی برادریوں سے مختلف سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مذہبی آزادی کو اکثریتی آبادی کی منظوری سے مشروط کرنا بھی بنیادی شہری حقوق کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اٹلی میں مسلم تنظیموں اور ریاست کے درمیان طویل عرصے سے جاری قانونی و انتظامی معاملات کے باوجود حکومت نے بعض اہم معاملات میں پیش رفت نہیں کی۔ ان میں COREIS اور UCOII جیسی اسلامی تنظیموں کی قانونی حیثیت سے متعلق امور اور روم کی عظیم مسجد کے انتظامی معاملات شامل ہیں۔

مجوزہ قانون کے حامی اسے مذہبی انتہا پسندی اور سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کے بعض نکات مذہبی آزادی، مساوات اور مسلم شہریوں کے حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha